کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا اور ان سے جنگ کرنا اور اس آدمی کا گناہ جس نے اﷲ کے ساتھ شرک کیا اور دنیا و آخرت میں اس کی سزا کا بیان
باب
جب ذمی یا اس کے علاوہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کنایۃ برابھلا کہے اور صراحۃ نہ کہے۔
حدیث نمبر
6462
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَی أَحَدِکُمْ إِنَّمَا يَقُولُونَ سَامٌ عَلَيْکَ فَقُلْ عَلَيْکَ
مسدد، یحییٰ، بن سعید، سفیان ومالک، بن انس، عبد ﷲ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہود جب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو وہ سَامٌ عَلَيْکَ (تجھ پر موت آئے) کہتے ہیں تم بھی وعَلَيْکَ کہو اس کے جواب میں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment