کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
اس چیز کا بیان کہ آپ نے مرتد محاربین کو پانی نہیں پلایا یہاں تک کہ وہ لوگ مرگئے
حدیث نمبر
6355
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُکْلٍ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا فِي الصُّفَّةِ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْغِنَا رِسْلًا فَقَالَ مَا أَجِدُ لَکُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَوْهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّی صَحُّوا وَسَمِنُوا وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيخُ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّی أُتِيَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَکَحَلَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا سُقُوا حَتَّی مَاتُوا قَالَ أَبُو قِلَابَةَ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
موسیٰ بن اسماعیل، وہیب، ایوب، ابوقلابہ، حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عکل کی ایک جماعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ لوگ صفہ میں رہنے لگے لیکن مدینہ کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی، انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ہمارے لئے دودھ کے جانور تلاش کریں، آپ نے فرمایا کہ کوئی صورت بجز اس کے نہیں پاتا کہ تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر رہو، چناچہ وہ لوگ (وہاں) آئے اور ان کا دودھ پیشاب پیتے رہے- یہاں تک کہ وہ تندرست موٹے ہوگئے اور چرواہے کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کوبھگا کر لے گئے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک خبر دینے والا آیا آپ نے انہیں تلاش کرنے کے لئے آدمی دوڑائے، ابھی دن بھی نہ ہوا تھا کہ وہ آدمی پکڑ کر لائے گئے، آپ نے سلاخیں گرم کرا کر ان کی آنکھوں میں پھرا دیں اور ہاتھ پاؤں کٹوا دیے اور انہیں داغ نہیں لگوایا اور پھروہ گرم زمین میں ڈال دیے گئے اور پانی مانگتے رہے انہیں پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے، ابوقلابہ نے کہا کہ انہوں نے چوری کی، اور قتل کیا اور ﷲ اس کے رسول سے جنگ کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment