کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان۔
حدیث نمبر
6125
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِي
محمد بن بشار، شعبہ، ابوعمران، انس بن مالک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے سے فرمائے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین کے برابر کوئی چیز (دولت) ہوتی تو کیا تم اسے دے کر اپنے کو عذاب سے چھڑاتے- وہ جواب دے گا ہاں! ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے اس سے ہلکی چیز چاہی تھی، جب کہ تم آدم کے صلب میں تھا- وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کوشریک نہ کرنا لیکن تو نے انکار کردیا اور میرے ساتھ شریک بنایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment