کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
جنگ کرنے والے کا فر اور مرتد کا بیان
حدیث نمبر
6353
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُکْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّی مَاتُوا
علی بن عبد ﷲ ، ولید بن مسلم، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوقلابہ جرمی حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خد مت میں عکل کے لوگ حاضر ہوئے اور اسلام لائے، مدینہ کی آب وہوا ان کے موافق نہ آئی تو آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں کے پاس جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے اسی طرح کیا اور تندرست ہوگئے، پھر وہ لوگ مرتد ہوگئے اور آپ کے چرواہوں کو قتل کر کے مویشی لے کر بھاگے، آپ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا وہ لائے گئے آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں کو پھڑوا دیا اور ان کو کاٹنے کی جگہ (داغ نہیں لگایا) یہاں تک کہ وہ مرگئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment