کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
قاتل سے سوال کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کرلے۔
حدیث نمبر
6414
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِکِ هَذَا أَفُلَانٌ أَوْ فُلَانٌ حَتَّی سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی أَقَرَّ بِهِ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ
حجاج بن منہال، ہمام، قتادہ، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا تو اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ ایسا کس نے کیا، اس نے کہا فلاں یا فلاں نے کیا ہے، یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس کو نبی و صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، پوچھنے پر اقرار کرلیا، تو اس کا سر پتھر سے کچلا گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment