کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول ومن احیاھا کی تفسیر۔
حدیث نمبر
6410
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ قَالَ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ قَالَ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَکَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّی قَتَلْتُهُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لِي يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ مُتَعَوِّذًا قَالَ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِکَ الْيَوْمِ
عمرو بن زرارہ، ہشیم، حصین، ابوظبیان، اسامہ بن زید بن حارث رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جہینہ کے ایک قبیلہ کی طرف جنگ کے لئے بھیجا، ہم لوگوں نے صبح ہوتے ہی ان پرحملہ کردیا، اور ان کوشکست دیدی، ان کا بیان ہے میں اور ایک انصاری اس قبیلہ کے ایک آدمی کے مقابل ہوئے، جب ہم نے ان پرحملہ کیا تو اس نے کہا لا الہ الا ﷲ ، اسامہ کا بیان ہے کہ انصاری تو اس سے رک گئے لیکن میں نے اپنے نیزے سے اس کو مارا، یہاں تک کہ میں نے اس کو قتل کردیا، جب ہم واپس آئے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کویہ خبر ملی تو آپنے مجھ سے فرمایا کہ اے اسامہ کیا تو نے اسے لا الہ الا ﷲ کہنے کے بعد بھی قتل کردیا، میں نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس نے صرف اپنی جان بچانے کے لئے یہ کہا تھا، آپ نے فرمایا کیا تو نے لا الہ الا ﷲ کے کہنے کے بعد بھی قتل کردیا، آپ اسی طرح بار بار فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں آرزو کرنے لگا کہ کاش آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment