کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
زنا کا اقرار کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6373
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ قَالَا کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَکَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَعَلَی امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِکْرُهُ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْکَ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا قُلْتُ لِسُفْيَانَ لَمْ يَقُلْ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَقَالَ الشَّکُّ فِيهَا مِنْ الزُّهْرِيِّ فَرُبَّمَا قُلْتُهَا وَرُبَّمَا سَکَتُّ
علی بن عبد ﷲ ، سفیان، زہری، عبید ﷲ ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ، زید بن خالد سے روایت کرتے ہیں ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ میں آپ کوقسم دے کرکہتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کریں اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیں، آپ نے فرمایا بیان کر اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پرتھا اس کی بیوی کے ساتھ میرے بیٹے نے زنا کرلیا، ایک سوبکریاں اور ایک خادم میں نے فدیہ میں دیا پھرمیں نے اہل علم سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ میرے بیٹے کو ایک سوکوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کورجم کیاجائے گا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تمہارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تو تمہیں واپس کئے جاتے ہیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن ہونا پڑے گا، اے شخص تو صبح اس کی بیوی کے پاس جا اگر اس نے اقرار کرلیا تو اس کو رجم کردو، وہ صبح اس عورت کے پاس گیا تو اس نے اقرار کرلیا تو اسے رجم کیا گیا- بخاری کہتے ہیں میں نے سفیان سے کہا کہ کیا زہر نے یہ بیان نہیں کیا کہ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ (کہ انہوں نے کہا میرے بیٹے پر رجم ہے) سفیان نے کہا مجھے اس زہری سے سننے میں شک ہے کبھی میں اس کو کہتا ہوں اور کبھی میں خاموش رہتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment