کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول ومن احیاھا کی تفسیر۔
حدیث نمبر
6413
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَکْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ کَانَ حَرِيصًا عَلَی قَتْلِ صَاحِبِهِ
عبدالرحمن بن مبارک، حماد بن زید، ایوب ویونس، حسن، احنف بن قیس، سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں اس شخص کی مدد کرنے چلا تو مجھے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ملے اور پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے میں نے کہا اس آدمی کی مدد کرنے کو، انہوں نے کہا کہ لوٹ جا، اس لئے کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں، میں نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (قاتل تو خیر دوزخ میں ہی ہوناچاہیے) لیکن مقتول کیوں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے ساتھی کے قتل پرحریص تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment