کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تقدیر کا بیان
باب
(اللہ تعالی کا قول کہ) ہم نے جو خواب تجھ کو دکھلایا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا
حدیث نمبر
6174
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاکَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ
حمیدی، سفیان، عمرو، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آیت، ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاکَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ ﴾، میں روئیا سے مراد آنکھ کا خواب ہے جورسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس رات دکھایا جس میں بیت المقدس کی طرف لے جائے گئے تھے اور ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ قرآن میں شجرۃ ملعونۃ، سے مراد زقوم کا درخت ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment