کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
تعزیر اور ادب کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر
6391
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّکُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُکُمْ کَالْمُنَکِّلِ بِهِمْ حِينَ أَبَوْا تَابَعَهُ شُعَيْبٌ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابوسلمہ، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صوم وصال یعنی متواتر کئی دن تک روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے چند لوگوں نے عرض کیا کہ آپ تو یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مسلسل روزے رکھتے ہیں تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون مجھ جیسا ہے؟ میں تو رات گزارتا ہوں اس حال میں کہ میرارب مجھ کو پلاتا ہے اور کھلاتا ہے، جب لوگ صوم وصال رکھنے سے باز نہ آئے تو آپ نے ان کے ساتھ روزہ رکھا، پھر دوسرے دن بھی ملایا پھرلوگوں نے چاند دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر چاند دیر سے دکھائی دیتا تو میں پر اور زیادہ کرتا اور یہاں آپ نے تنبیہا فرمایا، جب کہ وہ لوگ نہ مانے، شعیب اور یحییٰ بن سعید اور یونس نے زہری سے اس کی متابعت میں روایت کی اور عبدالرحمن بن خالد نے بواسطہ ابن شہاب سعید ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment