Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1801,TotalNo:6452


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ مسلمان یہودی کو غصہ کی حالت میں طمانچہ مارے۔
حدیث نمبر
6452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِکَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَدْ لَطَمَ فِي وَجْهِي قَالَ ادْعُوهُ فَدَعَوْهُ قَالَ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ قَالَ قُلْتُ وَعَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ قَالَ لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَائِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ
محمد بن یوسف، سفیان، عمر بن یحییٰ مازنی، یحییٰ، ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہود میں سے ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا جس کے منہ پر طمانچہ مارا تھا، اس نے عرض کیا اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کے انصار صحابہ میں سے ایک شخص نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے، آپ نے فرمایا کہ اسے بلاؤ، چناچہ وہ بلائے گئے، آپ نے فرمایا کہ تم نے ان کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا؟ اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں یہود کے پاس سے گزر رہا تھا کہ میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسی کوتمام انسانوں پر فضیلت دی، میں نے کہا کہ محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر بھی؟ اس نے کہا ہاں- مجھے غصہ آگیا اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا- آپ نے فرمایا کہ انبیاء میں مجھے فضیلت نہ دواس لئے قیامت کے روز سب بیہوش ہوجائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے، میں نہیں جانتا کہ وہ ہم سے پہلے ہوش میں آئے ہوں گے یا کوہ طور پر ان کا بیہوش ہونا اس کا بدلہ ہوگا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment