کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قسموں اور نذروں کا بیان
باب
اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر
6207
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ کَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَائٌ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ کَأَنَّهُ مِنْ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ إِلَی الطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آکُلَهُ فَقَالَ قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّکَ عَنْ ذَاکَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا أَتَيْنَاکَ لِتَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَکَ مَا تَحْمِلُنَا فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ حَمَلَکُمْ وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا
قتیبہ، عبدالوہاب، ایوب، ابوقلابہ، قاسم تمیمی، زہدم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جرم اور اشعریوں کے قبیلوں کے درمیان بھائی چارہ اور دوستی تھی ہم ابوموسی اشعری کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا، بنی تمیم کا ایک شخص انکے پاس تھا جس کا رنگ سرخ تھا اس کو کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو نجاست کھاتے ہوئے دیکھا ہے تو میری طبیعت متنفر ہوگئی میں نے قسم کھائی کہ مرغی نہیں کھاؤں گا، انہوں نے کہا کہ اٹھ میں تجھ سے اس کی بابت حدیث بیان کروں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چند اشعریوں کے ساتھ سواری مانگنے کے لئے آیا آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں تمہیں سوار نہیں کروں گا، اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے جس پر میں تم کو سوار کروں، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے اونٹ آئے آپ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں؟ اور ہمارے لئے پانچ اچھی اونٹنیوں کے دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے تو ہم نے کہا کہ ہم نے یہ کیا کیا؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہم سواری نہیں دیں گے اور نہ ان کے پاس کوئی سواری ہے، جس پر ہمیں سوار کریں، پھررسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کوسواری عنایت کی شاید ہم قسم بھول گئے، خدا کی قسم اس صورت میں ہم لوگ فلاح نہیں پائیں گے ہم لوگ آپ کے پاس واپس لوٹے تو ہم لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس سواری کی غرض سے آئے تھے، آپ نے قسم کھائی کہ ہم لوگوں کو سواری نہیں دیں گے، اور نہ آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس پر آپ سوار کریں، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں سوار نہیں کیا لیکن ﷲ نے تمہیں سوار کیا، بخدا میں کسی بات پر قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری بات میں بھلائی ہو تو میں اس صورت کو اختیار کرتا ہوں جو بہتر ہے اور میں قسم توڑ دیتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment