کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
حاکم کا اپنے عاملوں کے پاس اور قاضی کا اپنے امینوں کوخط لکھنے کا بیان
حدیث نمبر
6701
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي لَيْلَی ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي لَيْلَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَی يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ قَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی قَوْمِهِ فَذَکَرَ لَهُمْ وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَکْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ لِيَتَکَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي کَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ کَبِّرْ کَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ فَتَکَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَکُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ فَکَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ فَکُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ قَالُوا لَا قَالَ أَفَتَحْلِفُ لَکُمْ يَهُودُ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّی أُدْخِلَتْ الدَّارَ قَالَ سَهْلٌ فَرَکَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، ابولیلی، ح، اسماعیل، مالک، ابی لیلی بن عبد ﷲ بن عبدالرحمن بن سہل، سہل بن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اور ان کی قوم کے بزرگوں نے بیان کیا کہ عبد ﷲ بن سہل اور محیصہ دونوں تنگی کی وجہ سے جو انہیں درپیش آئی تھی خیبر کوگئے محیصہ کو خبرملی کہ عبد ﷲ قتل کرکے ایک گڑھے میں ڈال دئیے گئے ہیں یہ سن کر وہ یہودیوں کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم تم نے ان کو قتل کیا ہے، یہودی نے کہا کہ خدا کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا پھر اپنی قوم میں آئے اور ان سے بیان کیا کہ بعد ازاں یہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل گفتگو کرنے کے لئے نکلے یہ عبدالرحمن وہی تھے جو خیبر میں تھے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا کہ اپنے سے بڑے کو لاؤ اپنے سے بڑے کو لاؤ، یعنی جو تم میں سے معمر ہو وہ گفتگو کرے چناچہ حویصہ نے گفتگو کی پھر محیصہ نے گفتگو کی تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ تو اپنے ساتھی کی دیت دیں یا لڑائی کے لئے تیار ہوجائیں، یہی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو لکھا انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمن سے فرمایا کہ تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہوجاؤگے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر یہود قسم کھائیں گے، ان لوگوں نے کہ وہ لوگ تو مسلمان نہیں ہیں تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیاں خون بہا میں دیں، یہاں تک کہ جب یہ اونٹنیاں گھرلا ئی گئیں، تو سہل نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک نے مجھے لات ماری-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment