کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
لفظ لو (اگر) کے استعمال کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6747
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا فَإِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ أَيُّکُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُکُمْ کَالْمُنَکِّلِ لَهُمْ
ابوالیمان، شعیب، زہری، (دوسری سند) لیث، عبدالرحمن بن خالد، ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا کہ تم میں مجھ جیسا کون ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن پھر دوسرے دن ملا کر روزے رکھے، پھر لوگوں نے چاند دیکھا، تو آپ نے تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ اگر چاند دیر سے نکلتا تو میں زیادہ روزے رکھتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment