کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
تھوڑے اور زیادہ مال میں فیصلہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6694
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِکَ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، زینب بنت سلمہ، اپنی ماں سلمہ سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی باہر تشریف لائے میں تو محض ایک انسان ہوں اور میرے پاس مقدمہ آتا ہے، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک دوسرے سے زیادہ بلیغ ہو اور میں یہ گمان کرکے فیصلہ کردوں کہ وہ سچا ہے، جس شخص کے لئے مسلمان کے حق میں فیصلہ کروں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے اب وہ اس کولے لے یا اس کو چھوڑ دے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment