کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ تعالی کی ذات وصفات اور اسماء کے متعلق جو ذکر کیاجاتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر
6898
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَی يَسْتَحِدُّ بِهَا فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ قَالَ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَی أَيِّ شِقٍّ کَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِکَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِکْ عَلَی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا
ابوالیمان، شعیب، زہری، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی، جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں میں تھے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو بھیجا جن میں حضرت خبیب انصاری بھی تھے زہری کا بیان ہے کہ مجھ سے عبیدﷲ بن عیاض نے بیان کیا کہ انکو حارث کی بیٹی نے خبر دی کہ جب لوگ خببیب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے بنت حارثہ سے ایک استرہ لیا تاکہ اس سے صفائی کریں جب وہ لوگ حرم سے انکو قتل کرنے کے لئے نکلے تو خبیب انصاری نے یہ شعر پڑھا اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جاؤں تو مجھے پرواہ نہیں کہ ﷲ کیلئے کس کروٹ پر میرا گرنا ہو گا اور یہ میرا مرنا ﷲ کی ذات میں ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے جوڑوں پر برکت نازل کرے گا چناچہ ابن حارثہ نے خبیب کو قتل کر ڈالا آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ان کی خبر بیان کی جس دن کہ وہ مصیبت میں مبتلا کئے گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment