Tuesday, November 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2048,TotalNo:6699


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
امام کا کسی قوم کے پاس آکر ان کے درمیان صلح کرانے کا بیان
حدیث نمبر
6699
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ کَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَأَقَامَ وَأَمَرَ أَبَا بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ فِي الصَّلَاةِ فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّی قَامَ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ قَالَ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّی يَفْرُغَ فَلَمَّا رَأَی التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَکُ عَلَيْهِ الْتَفَتَ فَرَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ امْضِهْ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَکَذَا وَلَبِثَ أَبُو بَکْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَی قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَشَی الْقَهْقَرَی فَلَمَّا رَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ تَقَدَّمَ فَصَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ قَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْکَ أَنْ لَا تَکُونَ مَضَيْتَ قَالَ لَمْ يَکُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْقَوْمِ إِذَا رَابَکُمْ أَمْرٌ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحْ النِّسَائُ قال ابوعبد الله لم يقل هذا الحرف غيرحماد يا بلا ل مرابا بکر
ابوالنعمان، حماد، ابوحازم مدینی، سہیل بن سعد ساعدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بنی عمرو کے درمیان لڑائی ہوئی جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی پھر ان لوگوں کے پاس صلح کرانے تشریف لے گئے، جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال نے اذان کہی اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا وہ آگے بڑھے پھر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اس حال میں کہ حضرت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے، لوگوں پر یہ چیز گراں گزری کہ یہاں تک کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور اس صف میں آگئے جو حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے قریب تھی، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں نے تالیاں بجائیں اور ابوبکر جب نماز میں ہوتے تو جب تک فارغ نہ ہولیتے، اس وقت تک کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے جب انہوں نے دیکھا کہ تالیاں رک نہیں رہی، تو انہوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا آپ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز جاری رکھو، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا حضرت ابوبکر تھوڑی دیر ٹھہرے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قول پر ﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے پیچھے پھر آئے جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دیکھا تو آگے بڑھے اور لوگوں کونماز پڑھائی جب اپنی نمازے فارغ ہوچکے تو فرمایا کہ اے ابوبکر جب میں نے تمہیں اشارہ کردیا تھا تو کس چیز نے تمہیں اس بات سے روکا کہ اپنی نماز کو جاری رکھتے انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کے لئے یہ مناسب نہ تھا، کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کرے اور لوگوں سے آپ نے فرمایا کہ جب تم کو کوئی امر (نماز میں) پیش آئے تو تسبیح پڑھنا چاہیے اور تالیاں بجانا عورتوں کے لئے ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment