کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
فتنوں کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو ایک جماعت میں کچھ کہے پھر وہاں سے نکل کر اس کے خلاف کہے
حدیث نمبر
6629
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ لَمَّا کَانَ ابْنُ زِيَادٍ وَمَرْوَانُ بِالشَّأْمِ وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَکَّةَ وَوَثَبَ الْقُرَّائُ بِالْبَصْرَةِ فَانْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَی أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ عُلِّيَّةٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَا أَبَا بَرْزَةَ أَلَا تَرَی مَا وَقَعَ فِيهِ النَّاسُ فَأَوَّلُ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ تَکَلَّمَ بِهِ إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَ اللَّهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَی أَحْيَائِ قُرَيْشٍ إِنَّکُمْ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ کُنْتُمْ عَلَی الْحَالِ الَّذِي عَلِمْتُمْ مِنْ الذِّلَّةِ وَالْقِلَّةِ وَالضَّلَالَةِ وَإِنَّ اللَّهَ أَنْقَذَکُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَلَغَ بِکُمْ مَا تَرَوْنَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَکُمْ إِنَّ ذَاکَ الَّذِي بِالشَّأْمِ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَی الدُّنْيَا وَإِنَّ هَؤُلَائِ الَّذِينَ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُونَ إِلَّا عَلَی الدُّنْيَا وَإِنْ ذَاکَ الَّذِي بِمَکَّةَ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَی الدُّنْيَا
احمد بن یونس، ابوشہاب، عوف، ابوالمنہال سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابن زیاد (کوفہ میں) اور مروان شام میں اور ابن زبیر مکہ میں اور قراء بصرہ میں اپنی اپنی حکومتوں پرقابض تھے، میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی کے پاس گیا ہم لوگ ان کے گھر میں پہنچے، وہ اپنے بانس کے چھپر کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے، میرے والدین ان سے گفتگو کرنے لگے تو انہوں نے کہا کہ ابوبرزہ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ لوگ کس چیز میں پڑے ہوئے ہیں، پہلی بات جو ان کو کہتے ہوئے سنی وہ یہ کہ میں ﷲ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں، اس بات پر کہ صبح کو قریش پرغضب ناک اٹھتا ہوں، اے گروہ عرب تم ذلت کی اور گمراہی کی جس حالت میں تھے وہ تمہیں معلوم ہے ﷲ تعالی نے تمہیں اسلام اور محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے نجات دلائی، یہاں تک کہ تمہیں وہ باتیں نصیب ہوئی جو آج تم دیکھ رہے ہو، اور اس دنیا نے تمہارے درمیان فساد ڈال دیا، اور وہ شخص جو شام میں ہے خدا کی قسم دنیا کے لئے لڑ رہاہے، اور وہ شخص جو مکہ میں ہے خدا کی قسم دنیا ہی کے لئے لڑ رہاہے، (یعنی سب دنیا کے خواہش مند اور اس کے چاہنے والے ہیں)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment