کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
کثرت سوال اور بے فائد ہ تکلف کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
6797
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ فُلَانٌ وَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ الْآيَةَ
محمد بن عبدالرحیم، روح بن عبادہ، شعبہ، موسیٰ بن انس، حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ اے ﷲ کے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا باپ فلاں ہے، اور یہ آیت( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ الْآيَةَ) کہ اے ایماندارو! ایسی چیز کے متعلق مت دریافت کرو آخر آیت تک-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment