کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
جس شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے جو فیصلہ کیاجائے تو وہ اس کو نہ لے
حدیث نمبر
6692
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَی أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْکَ فَلَمَّا کَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ کَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي کَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَی
اسماعیل، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا مجھ سے ہے اس لئے تم اس پرقبضہ کرلینا، جب فتح مکہ کا سال آیا تو اس کو سعد نے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ اس کے مقابلے میں کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، دونوں رسول ﷲ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سعد نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس نے مجھ کو اس کے بارے میں وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدبن زمعہ یہ تمہارا ہے پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے پردہ کیا کرو، اس لئے اس میں عتبہ کی مشابہت تھی، چناچہ حضرت سودہ نے اس سے مرتےدم تک نہیں دیکھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment