کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل علم کواتفاق پررغبت دلانے کا بیان
حدیث نمبر
6827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَأَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَ النِّسَائُ يُشِرْنَ إِلَی آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمدبن کثیر، سفیان، عبدالرحمن بن عابس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا کہ آپ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید میں موجود رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہاں، اگر مجھے آپ سے رشتہ داری نہ ہوتی تو کمسنی کے سبب سے میں شریک نہیں ہو سکتا تھا آپ اس نشان کے پاس تشریف لے گئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس تھا، آپ نے نماز پڑھی پھر خطبہ سنایا (اور اذان و اقامت کا ذکر ابن عباس نے نہیں کیا) پھر صدقہ کا حکم دیا پھر عورتیں اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں آپ نے بلال کوحکم دیا تو وہ ان عورتوں کے پاس آئے (اور چیزیں لے کر) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment