Tuesday, November 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2026,TotalNo:6677


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
حکام اور عاملوں کی تنخواہ کا بیان،۔
حدیث نمبر
6677
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّی أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِيَ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ کَرِهْتَهَا فَقُلْتُ بَلَی فَقَالَ عُمَرُ فَمَا تُرِيدُ إِلَی ذَلِکَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ تَکُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَی الْمُسْلِمِينَ قَالَ عُمَرُ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي کُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَائَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّی أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَإِلَّا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ وَعَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَائَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّی أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَالَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، سائب بن یزید بن اخت نمر، حویطب بن عبدالعزی، عبد ﷲ بن سعدی سے روایت کرتے ہین انہوں نے بیان کیا کہ وہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافت زمانہ میں ان کے پاس آئے تو ان سے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھ سے یہ بیان نہیں کیا گیا کہ تم لوگوں کے کام کرتے ہو پھر جب تم کو اس کی اجرت دی جاتی ہے تو اس کو ناپسند کرتے ہو، میں نے کہا ہاں- حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اس سے پھر تمہارا کیا ارادہ ہے، میں نے کہا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور مال بھی ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنی اجرت مسلمانوں پر صدقہ کردوں، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ایسا نہ کرو اس لئے کہ میں نے بھی وہی اراداہ کیا تھاجوتم نے ارادہ کیا تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھے کچھ دیا کرتے تھے، تو میں کہتا کہ یہ اس کو دے دیں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا اس کو دے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لے لو، اور اس کے ذریعہ سے مالدار بن اس کو صدقہ کرو اگر مال تمہارے پاس اس طور پر آئے کہ تم اس کے منتظر نہ ہو اور نہ تم اس کا سوال کرنے والے ہو تو اس کو لے لو، اور اس کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ، بواسطہ زہری، سالم بن عبد ﷲ ، عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے، عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو کچھ دیتے تو میں کہہ دیتا کہ مجھ سے زیادہ جو محتاج ہو اس کو دیدو یہاں تک کہ ایک بارآپنے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہا کہ یہ اس کو دیدیجئے جومجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو لے لو، اور مالدار بن جاؤ اور اس کو صدقہ کرو، اگر اس مال میں تمہارے پاس اس طرح آے کہ تم اس کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور نہ مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو، اور جو نہ آئے تو اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگاو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment