کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس شخص کے خلاف دلیل جو اس کا قائل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے (تمام صحابہ کو معلوم تھے)
حدیث نمبر
6852
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَائٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَی عَلَی عُمَرَ فَکَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ إِنَّا کُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا قَالَ فَأْتِنِي عَلَی هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِکَ فَانْطَلَقَ إِلَی مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ إِلَّا أَصَاغِرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ قَدْ کُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا فَقَالَ عُمَرُ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ
مسدد، یحییٰ، ابن جریج، عطاء، عبیدﷲ بن عمرسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اندر آنے کی اجازت مانگی، کوئی جواب نہ دیا، تو یہ سمجھ کر کہ وہ کسی کام میں مشغول ہوں گے واپس آ گئے، حضرت عمر نے کہا کہ میں نے عبدﷲ بن قیس کی آواز نہیں سنی- اس کو اجازت دو، ان کو بلا کر لایا گیا تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا اس حرکت پر، ابوموسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس کا حکم دیا جاتا تھا، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس پر گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، ابوموسیٰ انصار کی ایک مجلس میں گئے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم میں سے چھوٹا ہی گواہی دے گا، چناچہ ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر بیان کیا کہ ہم لوگوں کو یہی حکم دیا جاتا تھا، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر پوشیدہ رہا، بازار میں خرید و فروخت نے مجھ کو اس سے بے خبر رکھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment