حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ لَأَنْ تَکُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
مالک بن اسماعیل، اسرائیل، عاصم، ابن سیر ین، کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ (مقدس) بال ہیں، ہم نے انہیں انس کے پاس سے یا (یہ کہا کہ) انس کے گھر والوں کے پاس سے پایا ہے، ابوعبیدہ نے فرمایا اگر ان بالوں میں سے ایک بال بھی مجھے مل جائے، تو یقینا تمام دنیا وی کائنات سے زیادہ محبوب ہو گا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = اس پانی کا بیان جس سے انسان کے بال دھوئے جائیں۔
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 170
مالک بن اسماعیل، اسرائیل، عاصم، ابن سیر ین، کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے پاس نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ (مقدس) بال ہیں، ہم نے انہیں انس کے پاس سے یا (یہ کہا کہ) انس کے گھر والوں کے پاس سے پایا ہے، ابوعبیدہ نے فرمایا اگر ان بالوں میں سے ایک بال بھی مجھے مل جائے، تو یقینا تمام دنیا وی کائنات سے زیادہ محبوب ہو گا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = اس پانی کا بیان جس سے انسان کے بال دھوئے جائیں۔
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 170
No comments:
Post a Comment