کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
امام اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے
حدیث نمبر
652
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَی ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَ هُمْ يَنْتَظِرُونَکَ قَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ فَقُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام لِصَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُکَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ أَجْلِسَانِي إِلَی جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَی جَنْبِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْکَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْکَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِي کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيُّ
احمد بن یونس، زائدہ، موسی بن ابی عائشہ، عیبدﷲ بن عبدﷲ بن عتبہ، روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا، اور میں نے کہا کہ آپ مجھ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اخیر مرض کی کیفیت کیوں نہیں بیان کرتیں انہوں نے کہا اچھا سنو میں بیان کرتی ہوں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے پھر آپ نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہم لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ آپ کے منتظر ہیں آپ نے فرمایا کہ میرے لئے طشت میں پانی رکھ دو میں نہاؤں گا حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم لوگوں نے ایسا ہی کیا پس آپ نے غسل فرمایا پھر کھڑا ہونا چاہا مگر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیہوش ہو گئے اس کے بعد ہوش آیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ آپ کے منتظر ہیں آپ نے فرمایا کہ میرے لئے طشت میں پانی رکھ دو چناچہ رکھ دیا گیا پس آپ نے غسل فرمایا پھر کھڑا ہونا چاہا مگر بیہوش ہو گئے پھر فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہم لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ آپ کے منتظر ہیں اور لوگ مسجد میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عشاء کی نماز میں انتظار کر رہے تھے مجبورا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر کے پاس کہلا بھیجا تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ابوبکر بولے اور وہ نرم دل آدمی تھے کہ اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھا دو عمر نے ان سے کہا کہ تم اس کے زیادہ حق دار ہو اپنے آپ میں نے کی کچھ خفت پائی تو دو آدمیوں کے درمیان میں سہارا لے کر نماز ظہر کیلئے نکلے ان میں سے ایک عباس تھے اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب آپ کو ابوبکر نے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو چناچہ ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ابوبکر کے پہلو میں بیٹھا دیا عبیدﷲ کہتے ہیں کہ اس وقت ابوبکر اس طرح نماز پڑھنے لگے کہ وہ تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتدا کرتے تھے- اور لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتدا کرتے تھے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہو نماز پڑھ رہے رتھے عبیدﷲ کہتے ہیں پھر میں عبدﷲ بن عباس کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں تمہارے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے حضرت عائشہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے متعلق بیان کی ہے انہوں نے کہا لاؤ سناؤ میں نے ان کے سامنے حضرت عائشہ کی حدیث پیش کی ابن عباس نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے تمہیں اس شخص کا نام بھی بتایا جو عباس ہمراہ تھا میں نے کہا نہیں ابن عباس نے کہا وہ علی تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment