Saturday, November 6, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:676


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو مقتدیوں کو امام کی تکبیر سنائے
حدیث نمبر
676
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنْ يَقُمْ مَقَامَکَ يَبْکِي فَلَا يَقْدِرُ عَلَی الْقِرَائَةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ فَقُلْتُ مِثْلَهُ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ إِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ فَصَلَّی وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الْأَرْضَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ صَلِّ فَتَأَخَّرَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی جَنْبِهِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّکْبِيرَ تَابَعَهُ مُحَاضِرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ
مسدد، عبدﷲ بن داؤد، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم مرض وفات میں مبتلا ہوئے تو آپ کے پاس بلال نماز کی اطلاع کرنے آئے آپ نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں میں نے عرض کیا کہ ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور قرات پر قادر نہ ہوں گے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں میں نے پھر وہی عرض کیا تو تیسری بار یا چوتھی بار آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تم یوسف کی عورتوں کی مثل ہو، ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں تو ابوبکر نے نماز شروع کی (اتنے میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرض میں افاقہ محسوس ہوا) نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم دو آدمیوں کے بیچ میں سہارا لیتے ہوئے باہر تشریف لائے گویا میں اس وقت بھی آپ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ کی دونوں پیر زمین پر گھسٹتے جاتے ہیں جب ابوبکر نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ نے ان کو ارشاد فرمایا کہ پڑھو، چناچہ ابوبکر کچھ پیچھے ہٹنے لگے اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ابوبکر لوگوں کو تکبیر سناتے جاتے تھے



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment