کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
سجدہ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر
767
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ کَذَلِکَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْ فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَائَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنْ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ وَلَا يَتَکَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا الرُّسُلُ وَکَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْکَ السَّعْدَانِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّی إِذَا أَرَادَ اللَّهُ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ فَکُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْکُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ قَدْ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَی رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَيَقُولُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِکَ بِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِکَ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ فَيُعْطِي اللَّهَ مَا يَشَائُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ بِهِ عَلَی الْجَنَّةِ رَأَی بَهْجَتَهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي کُنْتَ سَأَلْتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا أَکُونُ أَشْقَی خَلْقِکَ فَيَقُولُ فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِکَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَ ذَلِکَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَائَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ فَيُقَدِّمُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا فَرَأَی زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنْ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ فَيَسْکُتُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ وَيْحَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَی خَلْقِکَ فَيَضْحَکُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّی حَتَّی إِذَا انْقَطَعَ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا أَقْبَلَ يُذَکِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّی إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی لَکَ ذَلِکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ لَکَ ذَلِکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ أَحْفَظْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهُ لَکَ ذَلِکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِکَ لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ
ابو الیمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیب، عطاءبن یزید لیثی روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا کیا تم کو شب بدر میں چاند (کے دیکھنے) میں جب کہ اس کے اوپر ابر نہ ہو کچھ شک ہوتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نہیں، آپ نے فرمایا تو تم کو آفتاب (کے دیکھنے) میں جب کہ اس کے اوپر نہ ہو کچھ شبہ ہوتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا بس تم اسی طرح اپنے پروردگار کو دیکھو گے، قیامت کے دن لوگ اٹھائے جائیں گے پھر (ﷲ تعالیٰ) فرمائے گا کہ جو دنیا میں (جس کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے چناچہ کوئی ان میں سے آفتاب کیساتھ ہو جائیگا اور کوئی ان سے چاند کے ساتھ ہو جائیگا اور کوئی ان میں سے بتوں کے پیچھے ہولے گا اور یہ (ایمانداروں کا) گروہ باقی رہ جائے گا، اور اسی میں اسکے منافق (بھی شامل) ہونگے، ﷲ تعالیٰ اس صورت میں جس کو وہ نہیں پہچانتے، ان کے پاس آئیگا اور فرمائیگا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں تو وہ کہیں گے (ہم تجھے نہیں جانتے) ہم اس جگہ کھڑے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے پاس آجائے، اور جب وہ آئیگا، ہم اسے پہچان لیں گے، پھر ﷲ عزوجل ان کے پاس (اس صورت میں) آئیگا (جس کو وہ پہچانتے ہیں) اور فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں تو وہ کہیں گے کہ ہاں تو ہمارا پروردگار ہے، پس ﷲ انہیں بلائے گا اور جہنم کی پشت پر (پل بنا کر) ایک راستہ بنایا جائے گا، تمامپیغمبر جو اپنی امتوں کے ساتھ (اس پل سے) گزریں گے، ان میں پہلا میں ہوں گا اور اس دن سوائے پیغمبروں کے کوئی بول نہ سکے گا اور پیغمبر وں کا کلام اس دن اللھم سلّم سلّم ہوگا، جہنم میں سعدان کے کا نٹوں کے مشابہ آنکڑے ہونگے، کیا تم لوگوں نے سعدان کے کا نٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کہا ہاں! آپ نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں سے مشابہ ہونگے، البتہ ان کی بڑائی کی مقدار سوائے ﷲ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا وہ ان کے اعمال کے موافق چکیں گے، تو ان میں سے کوئی اپنے اعمال کے سبب (جہنم میں گر کر) ہلاک ہوجائے گا، اور کوئی ان میں سے (مارے زخموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا، اس کے بعد نجات پائے گا، یہاں تک کہ جب ﷲ دوزخیوں میں سے جن پر مہربانی کرنا چاہے گا، تو ﷲ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو ﷲ کی پرستش کرتے تھے وہ نکال لے جائیں، پس فرشتے انہیں نکال لیں گے اور فرشتے انہیں سجدوں کے نشانوں سے پہچان لیں گے، ﷲ (دوزخیوں کی) آگ کو حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کو نشان کو کھائے، چناچہ سجدوں کے مقام کے علاوہ جہنم کی آگ ابن آدم کے تمام جسم کو کھا جائے گی، اسی نشان سجدہ کی علامت سے لوگ نکالے جائیں گے اس وقت بالکل سیاہ (کوئلہ) ہوگئے ہوں گے، پھر ان کے اوپر آب حیات ڈالاجا ئے گا (تو اس کے پڑنے سے) وہ ایسے نکل آئیں گے جیسے دانہ سیل کے بہاؤ میں اگتا ہے اس کے بعد ﷲ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائیگا، اور ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان میں باقی رہ جائے گا اور وہ جنت میں سب دوزخیوں کے آخر میں داخل ہو گا، اس کا منہ دوزخ کی طرف ہوگا کہے گا، کہ اے میرے پروردگار! میرا منہ دوزخ (کی طرف) سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کے شعلہ نے جلا دیا ہے، ﷲ فرمائے گا کہ کیا تو ایسا تو نہ کرے گا کہ اگر تیرے ساتھ یہ احسان کردیا جائے تو تو اس کے علاوہ اور کچھ مانگے؟ وہ کہے گا تیری بزرگی کی قسم! نہیں پھر ﷲ عزوجل (اس بات پر) جس قدر وہ چاہے گا اس سے پختہ وعدہ لے لیگا، اس کے بعد ﷲ تعالیٰ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دیگا پھر جب وہ جنت کی طرف منہ کریگا اور وہ اس کی ترو تازگی دیکھے گا تو جس قدر مشیت الہٰی ہوگی وہ چپ رہے گا، اس کے بعد کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے، تو ﷲ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ کیا تو نے اس بات پر قول و قرار نہ کئے تھے کہ اسکے سوا جو تو مانگ چکا اور کچھ سوال نہ کرےگا؟ وہ عرض کریگا کہ اے میرے پروردگار! مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد نصیب نہ ہونا چاہئے، ﷲ فرمائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ اگر تجھے یہ بھی عطا کردیا جائے تو تو اس کے علاوہ اور کچھ سوال کرے، وہ کروں گا، پھر اپنے پروردگار کو جس قدر قول وقرار وہ چاہے گا دے گا، تب ﷲ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا جب اس کے دروازے پر پہنچ جائے گا اور اس کی شگفتگی اور وہ تازگی اور سر سر جو اس میں ہے، دیکھے گا تو جتنی دیر مشیت الہٰی ہوگی، چپ رہیگا اس کے بعد کہے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے ﷲ عزوجل فرمائے گا اے ابن دم تیری خرابی ہو تو کس قدر عہد شکن ہے کیا تو نے اس بات پر قول و قرار نہ کئے تھے کہ اس کے سوا جو تجھے دیا جا چکا اور کچھ نہ مانگے گا؟ وہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ کر پس ﷲ تعالی اس کی باتوں سے ہنسنے لگے گا اس کے بعد اس کوجنت میں جانے کی اجازت دے گا اور فرمائے گا کہ (جہاں تک تجھ سے ہوسکے) طلب کر چناچہ وہ خواہش کرنے لگے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشیں ختم ہوجائیں گی تو ﷲ بزرگ و برترفرمائے گا کہ یہ چیزیں اور مانگ اس کا پروردگار اسے یاد دلانے لگے گا یہاں تک کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہو جائیں گی تو ﷲ تعالی فرمائے گا تجھے یہ بھی (دیا جاتا ہے) اور اسی کے مثل اس کے ساتھ اور (بھی یہ حدیث سن کر) ابوسعید خدری نے ابوہریرہ سے کہا کہ رسول خدا صلی ﷲ علیہ وسلم اس مقام پر) یہ فرمایا تھا کہ ﷲ عزوجل نے فرمایا کہ تجھے یہ اور اس کے (ساتھ اس کے) مثل دس گنے (دئے جاتے ہیں) ابوہریرہ نے جواب دیا کہ مجھے اس حدیث میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے صرف آپ کا یہ ارشاد یاد ہے کہ تجھے یہ بھی دیا جاتا ہے اور اسکے مثل اس کے ساتھ اور بھی ابوسعید نے کہا کہ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، کہ تجھے یہ اور اس کے دس مثل (اس کے ساتھ دیئے جا تے) ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment