Saturday, November 13, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:798


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
بعض لوگ (نماز میں) امام کو سلام کرنے کے قائل نہیں، اور نماز کے سلام کو کافی سمجھتے ہیں
حدیث نمبر
798
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ وَزَعَمَ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ کَانَ فِي دَارِهِمْ قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ الْأَنْصارِيَّ ثُمَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي أَنْکَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَلَوَدِدْتُ أَنَّکَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَکَانًا حَتَّی أَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَ أَفْعَلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ مَعَهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّی قَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِکَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ مِنْ الْمَکَانِ الَّذِي أَحَبَّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ
عبدان، عبد ﷲ ، معمر، زہری، محمود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن ربیع روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یاد ہیں، اور میرے گھر میں میرے ڈول سے کلی کر کے میرے منہ پر پانی ڈالنا بھی مجھے یاد ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن مالک سے پھر جو بنی سالم کی امامت کرتا تھا، تو میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یا اور میں نے کہا کہ میں اپنی بینائی کو کمزور پاتا ہوں، میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان میں بہت سے پانی (کے مقامات) حائل ہوجاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے اور میرے گھر میں کسی مقام پر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ لیتے کہ اس کو میں مسجد بنا لیتا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں انشاء ﷲ ایسا کروں گا، پس دوسرے دن، دن چڑھے رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی تھے، پس نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت طلب کی اور میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دی، بیٹھنے سے پہلے ہی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم گھر کے کس مقام پر نماز پڑھوانا چاہتے ہو ہیں نماز پڑھ دوں، انہوں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام کی طرف شارہ کیا جہاں وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیلئے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے، پس آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم لوگوں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف باندھی، اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا، ہم نے (بھی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ) سلام پھیرا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment