کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
نماز پڑھا چکنے کے بعد اگر کسی کو اپنی ضروریات یاد آئے۔
حدیث نمبر
807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عُقْبَةَ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَائَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ إِلَی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَی أَنَّهُمْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ ذَکَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَکَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ
محمدبن عبید، عیسیٰ بن یونس، عمر بن سعید، ابن ابی ملیکہ، عقبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیر کر عجلت کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور آدمیوں کی گردنیں پھاند کر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیبیوں کے کسی حجرہ کی طرف تشریف لئے گئے، لوگ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اس سرعت سے گھبرا گئے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی سرعت سے متعجب ہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے کچھ سونا یاد آگیا تھا جو ہمارے ہاں (رکھاہوا) تھا، میں نے اس بات کو برا سمجھا کہ وہ مجھے (خدا کی یاد سے) روکے لہٰذا میں نے اس کے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment