کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز خوف کا بیان
باب
اوراﷲتعالیٰ نے فرمایاجب تم زمین میں چلو (سفر کرو) تو تم پر اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔
حدیث نمبر
894
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاةَ الْخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَی الْعَدُوِّ وَرَکَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَکَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ فَجَائُوا فَرَکَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ رَکْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَکَعَ لِنَفْسِهِ رَکْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
ابوالیمان، شعیب بیان کرتے ہیں کہ میں زہری سے پوچھا کہ کیا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی نماز یعنی خوف کی نماز پڑھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا کہ عبد ﷲ بن عمر نے کہا کہ میں اطراف نجد میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہم لوگ دشمن کے مقابل ہوئے، اور ان کے سامنے ہم لوگوں نے صفیں قائم کیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم لوگوں کو نماز پڑھائی، تو ایک جماعت ان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے گئی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ اس جماعت کی جگہ پر واپس ہوئے جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، وہ لوگ آئے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکوع اور دوسجدے کئے، پھر سلام پھیر لیا اور اس جماعت میں سے ہر ایک نے ایک رکوع اور دوسجدے اکیلے اکیلے کئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment