Wednesday, November 17, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:899


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز خوف کا بیان
باب
صبح کی نماز اندھیرے میں اور سویرے میں پڑھنا۔
حدیث نمبر
899
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَکِبَ فَقَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّکَکِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَی الذَّرَارِيَّ فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْکَلْبِيِّ وَصَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا فَتَبَسَّمَ
مسدد، حماد بن زید، عبدالعزیز بن صہیب، ثابت بنانی، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی پھر سوارہوئے اور فرمایا کہ ﷲ اکبرخیبر ویران ہوا جئے جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے، چناچہ وہ لوگ (یہودی) گلیوں میں یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے کہ محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لشکر کے ساتھ گئے، روای نے کہا کہ خمیس لشکر کو کہتے ہیں- تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ان پر غالب گئے، جنگ کرنے والوں کو قتل کر دیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا- صفیہ، دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ملیں جس سے بعد میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا- عبدالعزیز نے ثابت سے کہا کہ ابومحمد کیا تم نے انس سے پوچھا تھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (رسول ﷲ) نے ان کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو ثابت نے کہا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہی کو ان کا مہر مقرر کیا تھا- عبدالعزیز کا بیان ہے کہ ابومحمد اس پر مسکرائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment