کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
اس چیز کا بیان جو عیدین کے متعلق منقول ہے اور ان دونوں میں مزین ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
900
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ عُمَرُ جُبَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَی بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوُفُودِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ فَأَتَی بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ وَأَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْجُبَّةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِيعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا حَاجَتَکَ
ابو الیمان، شعیب، زہری، سالم بن عبد ﷲ ، عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک ریشمی جبہ لیا جو بازار میں بک رہا تھا، اوراس کولے کر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اورعرض کیاکہ یارسول اللّہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اسے خریدلیں، اور عید اور وفد کے آنے کے دن اسے پہن کر اپنے کو آراستہ کریں- تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ٹھہرے رہے، جب تک ﷲ تعالیٰ نے چاہا، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا اسے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے لے لیا، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر ئے اور عرض کیا، کہ یا رسول اللّہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں (اس کے باوجود) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جبہ میرے پاس بھیجا تو ان سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اپنی ضرورت پوری کرو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment