کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عید کے خطبہ میں امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
924
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًی إِلَی الْبَقِيعِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ نُسُکِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِکَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْئٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُکِ فِي شَيْئٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ
ابونعیم، محمد بن طلحہ، زبید، شعبی، براء روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر ہم لوگوں کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ سب سے پہلی عبادت ہماری اس دن یہ ہونی چاہئے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں، پھر واپس ہوں اور قربانی کریں، جس نے یہ کیا تو میری سنت کے موافق کیا اور جس نے قبل اس کے ذبح کیا تو وہ (گوشت) ہے، جو اس نے اپنے گھر والوں کیلئے تیار کیا، قربانی نہیں ہے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! میں نے تو نماز سے پہلے ذبح کرلیا اور میرے پاس ایک سال کا بھیڑ کا بچہ ہے جو دو سال کے بچہ سے زیادہ بہتر ہے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ذبح کر دو اور تمہارے بعد کسی کیلئے کافی نہ ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment