کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عید گاہ میں نشان لگانے کا بیان
حدیث نمبر
925
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ حَتَّی أَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَی بَيْتِهِ
مسدد، یحییٰ، سفیان، عبدالرحمن بن عابس روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے سنا، ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں شریک ہوئے ہیں، تو فرمایا ہاں اگر بچپن کی وجہ سے مجھ سے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو شفقت نہ ہوتی میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نہ دیکھ سکتا، اس نشان کے پاس آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا- پھر عورتوں کے پاس آئے اس حال میں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلال تھے- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کو نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا میں نے ان عورتوں کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ جھکاتیں اور بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتیں، پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور بلال اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment