کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
لوگوں کا امام سے بارش کی دعا کیلئے درخواست کرنے کا بیان جب کہ وہ قحط میں مبتلا ہوں
حدیث نمبر
954
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْکَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ
حسن بن محمد، محمد بن عبد ﷲ انصاری، عبد ﷲ بن مثنیٰ، ثمامتہ بن عبد ﷲ بن انس، انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطاب، عباس بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے ﷲ ہم تیرے پاس تیرے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچا (عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) کا وسیلہ لے کرآئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کیے جاتے یعنی بارش ہوجاتی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment