کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
استسقاء میں چادر الٹنے کا بیان
حدیث نمبر
956
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبَاهُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَائَهُ وَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ کَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ هُوَ صَاحِبُ الْأَذَانِ وَلَکِنَّهُ وَهْمٌ لِأَنَّ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ مَازِنُ الْأَنْصَارِ
علی بن عبد ﷲ سفیان، عبد ﷲ بن ابی بکر، عباد بن تمیم اپنے والد سے، اور وہ اپنے چچا عبد ﷲ بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے اور بارش کی دعا کی، پھر قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر الٹ دی اور دو رکعت نماز پڑھی، امام بخاری کا بیان ہے کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ یہ وہی عبد ﷲ بن زید اذان والے ہیں یعنی جنہوں نے خواب میں اذان دیکھی تھی، لیکن انہیں وہم ہوا ہے، اس لیے کہ یہ عبد ﷲ بن زید بن عاصم مازنی ہیں جو انصار کے مازنی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment