Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:974


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز استسقاء کا بیان
باب
اس شخض کا بیان جو بارش میں ٹھہرے یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہوجائے
حدیث نمبر
974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ أَصَابَتْ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَائِ قَزَعَةٌ قَالَ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّی رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَی لِحْيَتِهِ قَالَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِکَ وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَی الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی فَقَامَ ذَلِکَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَائُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْ السَّمَائِ إِلَّا تَفَرَّجَتْ حَتَّی صَارَتْ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ حَتَّی سَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا قَالَ فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ
محمد بن مقاتل، عبد ﷲ ، اوزاعی، اسحاق بن عبد ﷲ بن ابی طلحہ انصاری، انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک سال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے اس اثناء میں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ مال تباہ ہوگیا اور بچے بھوکے ہیں، اس لئے آپ ﷲ سے ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، انس نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اس وقت آسمان پر بدلی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بادل پہاڑوں کی طرف سے نمودار ہوئے، پھرآپ منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کے قطرے آپ کی داڑھی پر ٹپک رہے ہیں، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن ہم پر بارش ہوتی رہی اور اس کے بعد کے دوسرے دن اور تیسرے دن بلکہ دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، وہ اعرابی کھڑا ہوا یا اس کے علاوہ کوئی دوسراشخص کھڑا ہوا اور بولا یا رسول ﷲ مکانات منہدم ہوگئے، مال ڈوب گیا، آپ ﷲ سے ہمارے لیے دعا کریں چنانچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے میرے ﷲ ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب آپ آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں سے اشارہ فرماتے اس طرف کی بدلی ہٹ جاتی یہاں تک کہ مدینہ ایک حوض کی طرح ہوگیا اور وادی قتادۃ ایک مہینہ تک بہتا رہا اور جو شخص بھی اس طرف سے آتا بارش کی خوبی کا تذکرہ کرتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment