کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
طاق مرتبہ غسل لینامستحب ہے۔
حدیث نمبر
1177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ کَافُورًا فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَی إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ وَکَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا وَکَانَ فِيهِ ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَکَانَ فِيهِ أَنَّهُ قَالَ ابْدَئُوا بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْهَا وَکَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
محمد، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، محمد، ام عطیہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم لوگ آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اس کو تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور آخر میں کافور ملاؤ جب تم لوگ فارغ ہو جاؤ تو ہمیں خبر کردینا جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو اطلاع دی آپ نے ہم کو اپنا تہبند دیا اور فرمایا کہ اس کا انا بنا دو اور ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے حفصہ نے محمدکی حدیث کے مثل روایت کیا اور حفصہ کی حدیث میں تھا کہ اس کو طاق مرتبہ غسل دو اور اس میں یہ بھی تھا کہ تین یا پانچ مرتبہ یاسات مرتبہ غسل دو اور یہ بھی تھا کہ آپ نے فرمایا داہنی طرف سے اور مقامات وضو سے شروع کرو اور اس میں یہ بھی تھا کہ حفصہ نے کہا کہ ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کوتین حصوں میں تقسیم کردیا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment