کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کیلئے مرثیہ کہا۔
حدیث نمبر
1214
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا فَقُلْتُ بِالشَّطْرِ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَبِيرٌ أَوْ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِکَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ثُمَّ لَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَکَّةَ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال ہماری اس بیماری میں عیادت کرتے تھے جو اس سال مجھے بہت زیادہ ہوگئی تھی، میں نے عرض کیا مجھے بیماری ہوگئی اور میں مالدار ہوں اور میرے وارث سوائے میری بیٹی کے اور کوئی نہیں- کیامیں اپنا دو تہائی مال صدقہ نہ کردوں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں- میں نے عرض کیا کہ نصف، آپ نے فرمایا کہ نہیں- پھر آپ نے فرمایا کہ تہائی اور تہائی بھی بڑی ہے یا فرمایا کہ زیادہ ہے- تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑے اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے کہ لوگوں سے سوال کرتے پھریں اور تم خرچ نہیں کرتے ہو ﷲ کی رضامندی کی خاطر مگر اس پر تمہیں اجر دیاجائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں پیچھے چھوڑ دیاجاؤں گا؟ آپ نے فرمایاتم کبھی نہیں چھوڑے جاؤ گے مگر اس سے تمہارے درجہ اور بلندی میں زیادتی ہوگی پھر ممکن ہے کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دییے گئے تو تم سے ایک قوم فائدہ اٹھائے گی اور دوسری قوم نقصان اٹھایے گی اے ﷲ میرے اصحاب کی ہجرت کو پختہ اور کامل کردے اور ان کو پیچھے نہ لوٹا لیکن تنگ حال سعد بن خولہ کے لیے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم افسوس کرتے تھے وہ مکہ میں وفات پاگئے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment