کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
محرم کپڑے چادر اور تہبند میں سے کیا پہنے؟۔
حدیث نمبر
1448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَائَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَيْئٍ مِنْ الْأَرْدِيَةِ وَالْأُزُرِ تُلْبَسُ إِلَّا الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ عَلَی الْجِلْدِ فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّی اسْتَوَی عَلَی الْبَيْدَائِ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ وَذَلِکَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ فَقَدِمَ مَکَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ لِأَنَّهُ قَلَّدَهَا ثُمَّ نَزَلَ بِأَعْلَی مَکَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ وَهُوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَقْرَبْ الْکَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّی رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُئُوسِهِمْ ثُمَّ يَحِلُّوا وَذَلِکَ لِمَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَلَّدَهَا وَمَنْ کَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلَالٌ وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ
محمد بن ابی بکر مقدمی، فضیل بن سلیمان، موسی بن عقبہ کریب، عبدﷲ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مدینے سے کنگھی کرنے اور تیل لگانے، تہہ بند اور چادر پہننے کے بعد روانہ ہوئے- آپ نے چادر اور تہہ بند کے پہننے سے بالکل منع نہ فرمایا مگر زعفران میں رنگا ہوا کپڑا جس سے بدن پر زعفران جھڑے، پھر صبح کے وقت ذی الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوجائے یہاں تک کہ مقام بیداء میں پہنے تو آپ اور آپ کے صحابہ نے لبیک کہا، اور اپنے جانوروں کی گردن میں قلعہ ڈالا، یہ اس دن ہوا کہ ابھی ذیقعدہ کے پانچ دن باقی تھے، مکہ آئے تو ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا اور قربانی کے جانوروں کی وجہ سے احرام نہیں کھولا- اس لئے کہ اس کی گردن میں قلادہ ڈال دیا تھا، پھر حجون کے پاس مکہ کے بالائی حصہ میں اترے، اس حال میں کہ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے- اور طواف کرنے کے بعد آپ کعبہ کے قریب نہیں گئے، یہاں تک کہ عرفہ سے واپس ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا مروہ کے درمیان طواف کریں، پھر اپنے سر کے بال کتروالیں پھر احرام کھول ڈالیں اور یہ اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس قربانی کا جانور ہو- قلادہ ڈالا ہوا نہ ہو اور جس شخص کے ساتھ اس کی بیوی ہے، وہ اس کے لئے حلال ہے اور خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا درست ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment