کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
حج میں سوار ہونے اور کسی کو پیچھے بٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَی الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمزْدَلِفَةِ إِلَی مِنًی قَالَ فَکِلَاهُمَا قَالَ لَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
عبدﷲ بن محمد، وہب بن جریر، جریر، یونس ایلی، زہری، عبیدﷲ بن عبدﷲ ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اسامہ رضی ﷲ عنہ عرفہ سے مزدلفہ تک نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پیچھے تھے- اور فضل کو مزدلفہ سے منی تک آپ نے اپنے پیچھے بٹھایا- دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment