Sunday, December 12, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1458


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
حیض ونفاس والی عورت کس طرح احرام باندھے۔
حدیث نمبر
1458
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا فَقَدِمْتُ مَکَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ هَذِهِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ کَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
عبدﷲ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب عروہ بن زبیر، عائشہ رضی ﷲ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع میں ہم لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے- ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس قربانی کا جانور ہو، وہ حج اور عمرے دونوں سے اس کا احرام باندھے، پھر احرام نہ کھولے، یہاں تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے- میں مکہ پہنچی اس حال میں کہ میں حائضہ تھی میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہ کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان طواف کیا میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اسکی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا سر کھول ڈالو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھو اور عمرہ کو چھوڑ دو- میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی ﷲ عنہ کے ساتھ مقام تنعیم کی طرف بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا- آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے عمرے کے بدلے ہے- حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، خانہ کعبہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا اور پھر احرام کھول دیا، پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد ایک دوسرا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا ان لوگوں نے صرف ایک طواف کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment