کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
مکہ کی فضیلت اور اس کی عمارتوں کا بیان۔
حدیث نمبر
1488
حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ فَذَلِکَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَی هَدْمِهِ قَالَ يَزِيدُ وَشَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ حِجَارَةً کَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ قَالَ جَرِيرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ مَوْضِعُهُ قَالَ أُرِيکَهُ الْآنَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ الْحِجْرَ فَأَشَارَ إِلَی مَکَانٍ فَقَالَ هَا هُنَا قَالَ جَرِيرٌ فَحَزَرْتُ مِنْ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا
بیان بن عمرو، یزید، جریر بن حازم، یزید بن رومان، عروہ، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے عائشہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا کہ اے عائشہ رضی ﷲ عنہ! اگر تمہاری قوم سے جاہلیت کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کے منہدم ہونے کا حکم دیتا اور اس میں سے جو حصہ نکال دیا گیا ہے اسے میں اس میں شامل کردیتا اور اس کو زمین سے ملا دیتا اور اس میں دو دروازے رکھتا،، ایک پورب کی طرف، دوسرا پچھم کی طرف کھلتا اور بنیاد ابراہیمی کے مطابق کر دیتا- یہی حدیث ہے جس نے ابن زبیر رضی ﷲ عنہ کو کعبہ کے منہدم کرنے پر آمادہ کیا- یزید نے بیان کیا کہ میں ابن زبیر کے پاس موجود تھا، جس وقت انہوں نے اس کو گرا کر بنایا اور حجر اسود کو اس میں داخل کیا اور میں نے بنیاد ابراہیمی کے پتھر دیکھے، جو اونٹوں کی کوہان کی طرح تھے، جریر نے بیان کیا کہ میں نے یزید سے پوچھا، اس کی جگہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں ابھی تمہیں دکھاتا ہوں، میں ان کے ساتھ حجر اسود کے پاس گیا تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کر کے بتلایا کہ یہاں ہے- جریر کا بیان ہے کہ میں نے اندازہ کیا حجر اسود سے چھ گز یا اس کے قریب قریب تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment