کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
مکہ کے گھروں میں میراث جاری ہونے کا اور اس کے خریدنے اور بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1490
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِکَ بِمَکَّةَ فَقَالَ وَهَلْ تَرَکَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ وَکَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا کَانَا مُسْلِمَيْنِ وَکَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ کَافِرَيْنِ فَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْکَافِرَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانُوا يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِکَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَائُ بَعْضٍ الْآيَةَ
اصبغ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، اسامہ بن زید رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں اسامہ بن زید نے بیان کیا- یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آپ مکہ میں اپنے گھر میں کہاں اتریں گے؟ آپ نے فرمایا عقیل نے جائیداد یا گھر کہاں چھوڑا ہے؟ اور عقیل اور طالب ابوطالب کے وارث ہوئے اور حضرت جعفر رضی ﷲ عنہ اور حضرت علی رضی ﷲ عنہ کسی چیز کے بھی وارث نہ ہوئے، اس لئے کہ وہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ اس لئے کہتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہ ہوگا- ابن شہاب نے کہا کہ لوگ ﷲ تعالی کے اس قول کی تاویل کرتے تھے، بے شک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ﷲ تعالی کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی، ان میں سے بعض بعض کے دوست ہیں، آخر آیت تک-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment