کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
اگر غیر محرم شکار کرے اور کسی محرم کو تحفہ بھیجے تو وہ اس کو کھالے۔
حدیث نمبر
1701
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ انْطَلَقَ أَبِي عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ تَضَحَّکَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قُلْتُ أَيْنَ تَرَکْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَکْتُهُ بِتَعْهَنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَکَ يَقْرَئُونَ عَلَيْکَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَکَ فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ لِلْقَوْمِ کُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
معاذ بن فضالہ، ہشام، یحیی، عبدﷲ بن ابی قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حدیبیہ کے سال گئے ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا لیکن انہوں نے احرام نہیں باندھا اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا کہ ایک دشمن آپ سے جنگ کرنا چاہتا ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم روانہ ہوئے میں بھی آپ کے صحابہ کے ساتھ تھا بعض بعض کو دیکھ کر ہنسنے لگے، میں نے ایک گورخر کو دیکھا تو میں نے اس پر حملہ کر دیا اور میں نے اس کو نیذہ مار کر چبھو کر چھوڑ دیا، میں نے لوگوں سے مدد مانگی ان لوگوں نے مدد کرنے سے انکار کردیا، ہم لوگوں نے اس کا گوشت کھایا اور ہم لوگوں کو خوف ہوا کہ کہیں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے جدانہ ہو جائیں میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو ڈھونڈھنا شروع کر دیا، اپنے گھوڑے کو کبھی تیز دوڑاتا اور کبھی آہستہ دوڑاتا وسط شب میں بنی غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی میں نے اس سے پوچھا تو نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا؟ اس نے کہا کہ میں نے ان کو تعہن میں چھوڑا، سقیا کے پاس قیلولہ کرنے کا ارادہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ آپ کے ساتھی سلام عرض کرتے ہیں وہ لوگ ڈر رہے ہیں کہ کہیں آپ ان لوگوں سے جدا نہ ہوجائیں اس لئے آپ ان لوگوں کا انتظار کیجیئے پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ میں نے ایک گورخر کا شکار کیا اور اس کا بچا ہوا گوشت میرے پاس ہے تو آپ نے جماعت سے کہا کہ کھاؤ حالانکہ وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment