کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
کیارمضان میں قصدا جماع کرنے والا اپنے گھر والوں کو کفارے کا کھانا کھلا سکتا ہے جب کہ وہ سب سے زیادہ محتاج ہو۔
حدیث نمبر
1812
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الْأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا قَالَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ قَالَ أَطْعِمْ هَذَا عَنْکَ قَالَ عَلَی أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا قَالَ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَکَ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، زہری، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ اس بد نصیب نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے- آپ نے فرمایا کہ تیرے پاس کوئی غلام ہے جو تو آزاد کرے؟ اس نے کہا نہیں- آپ نے فرمایا کیا تم دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتے ہو کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں- پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیاجس میں کجھوریں تھیں- آپ نے فرمایا کہ اس کو لے جا کر اپنی طرف سے کھلا دے، اس نے کہا کہ پتھریلے میدانوں کے درمیان میں ہم سے زیادہ کوئی گھرانا محتاج نہیں ہے- آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلادے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment