کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
داؤود علیہ السلام کے روزں کا بیان
حدیث نمبر
1854
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيکَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَی الْأَرْضِ وَصَارَتْ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ أَمَا يَکْفِيکَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَمْسًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سَبْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تِسْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِحْدَی عَشْرَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام شَطْرَ الدَّهَرِ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا
اسحق واسطی، خالد بن عبدﷲ ، خالد، (حذاء) ابوقلابہ، ابوالملیح نے ابوقلابہ سے بیان کیا کہ میں تیرے والد کے ساتھ عبدﷲ بن عمرو کے پاس گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے میرے روزے کا تذکرہ ہوا- آپ میرے پاس تشریف لائے- میں نے آپ کے لئے چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی بچھا دیا- آپ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ تکیہ میرے اور آپ کے درمیان حائل تھا- آپ نے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے میں تین روزے کافی نہیں ہیں؟ میں نے کہا یا رسول ﷲ کچھ اور- آپ نے فرمایا پانچ روزے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ کچھ اور آپ نے فرمایا سات روزے- میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کچھ اور- آپ نے فرمایا نو، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ کچھ اور، آپ نے فرمایا گیارہ، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment