کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
مشتبہات کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر
1922
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَی أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي کَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَی فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ
یحیی بن قزعۃ، مالک، ابن شہاب،، عروۃ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اس لئے اس پر قبضہ کر لینا، عائشہ کا بیان ہے کہ جس سال مکہ فتح ہوا اس کو سعد بن ابی وقاص نے لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، دونوں اپنا مقدمہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے، سعد نے عرض کیا یا رسول ﷲ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے اس کے متعلق وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ نے عرض کیا یہ میرا بھائی ہے، اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد بن زمعہ! یہ لڑکا تجھ کو ملے گا، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لئے پتھر ہے، پھر سودہ بنت زمعہ زوجہ نبی صلی ﷲ سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کرو، اس لئے کہ اس میں عتبہ کی مشابہت پائی جاتی ہے، اس لڑکے نے حضرت سودہ کو مرتے دم تک نہیں دیکھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment