کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
مشتبہات کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر
1923
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَکُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ کَلْبِي وَأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَی الصَّيْدِ کَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ قَالَ لَا تَأْکُلْ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَی کَلْبِکَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَی الْآخَرِ
ابوالولید، شعبہ، عبدﷲ بن ابی السفر، شعبی عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے تیر کے ساتھ شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی نوک کی طرف سے لگے تو اس کو کھاؤ اور جب اس کی چوڑائی کی طرف سے اس کو لگے تو نہ کھاؤ، وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور بسم ﷲ کہتا ہوں پھر اس کے شکار پر ایک دوسرا کتا پاتا ہوں جس پر میں نے بسم ﷲ نہیں کہی اور میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مت کھاؤ! اس لئے کہ تم نے اپنے کتے پر بسم ﷲ کہی ہے دوسرے پر نہیں کہی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment