کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
مسلمان کسی حربی کو دارالحرب یا دارالاسلام میں وکیل مقرر کرے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر
2149
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ کِتَابًا بِأَنْ يَحْفَظَنِي فِي صَاغِيَتِي بِمَکَّةَ وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا ذَکَرْتُ الرَّحْمَنَ قَالَ لَا أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ کَاتِبْنِي بِاسْمِکَ الَّذِي کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَکَاتَبْتُهُ عَبْدَ عَمْرٍو فَلَمَّا کَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ خَرَجْتُ إِلَی جَبَلٍ لِأُحْرِزَهُ حِينَ نَامَ النَّاسُ فَأَبْصَرَهُ بِلَالٌ فَخَرَجَ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي آثَارِنَا فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَلْحَقُونَا خَلَّفْتُ لَهُمْ ابْنَهُ لِأَشْغَلَهُمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَبَوْا حَتَّی يَتْبَعُونَا وَکَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا فَلَمَّا أَدْرَکُونَا قُلْتُ لَهُ ابْرُکْ فَبَرَکَ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لِأَمْنَعَهُ فَتَخَلَّلُوهُ بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي حَتَّی قَتَلُوهُ وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُرِينَا ذَلِکَ الْأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ
عبدالعزیز بن عبدﷲ ، یوسف بن ماجشون، صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے وہ ان کے دادا عبدالرحمن بن عوف سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے امیہ بن خلف کو لکھا وہ مکہ میں میرے سامان کی حفاظت کرے، میں مدنیہ میں اس کے سامان کی حفاظت کروں گا- جب میں نے خط میں اپنا نام عبدالرحمن لکھا تو اس نے کہا کہ میں عبدالرحمن کو نہیں جا نتا تو اپنا وہ نام لکھ جو جاہلیت میں تھا- تو میں نے عبد عمرو لکھا جب بدر کا دن آیا تو میں ایک پہاڑ کی طرف گیا تاکہ میں اس کی حفاظت کروں جب کہ لوگ سو رہے تھے، بلال نے اس کو دیکھ لیا، وہ نکلے اور انصار کی ایک مجلس میں پہنچ کر کہا، یہ امیہ بن خلف ہے، اگر امیہ بچ نکلا تو میری خیر نہیں چناچہ ان کے ساتھ انصار کی ایک جماعت ہمارے پیچھے پیچھے نکلی جب مجھے خوف ہوا کہ وہ ہم تک پہنچ جائیں گے میں نے ان لوگوں کے لئے اس کے بیٹے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں لیکن ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اس پر بھی وہ لوگ نہ مانے اور ہمارے پیچھے چلے اور وہ ایک بوجھل آدمی تھا، جب انصار ہم تک پہنچ گئے تو میں نے اس سے کہا بیٹھ جا وہ بیٹھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا تاکہ اسے بچا لوں لیکن ان لوگوں نے میرے نیچے ہی تلواریں گھسا دیں یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا ان میں سے ایک کی تلوار میرے پاؤں میں بھی لگی اور عبدالرحمن بن عوف اس زخم کا نشان اپنے پشت قدم پر ہم کو دکھاتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment